لیڈی ڈاکٹر وردا مشتاق کا قتل پوری وادی میں غم و غصے کی لہر

 ایبٹ آباد: اغواء کے بعد قتل — لیڈی ڈاکٹر وردا کی لاش لڑی بنوٹہ سے برآمد، 3 کروڑ روپے مالیت کے زیورات امانت میں دینے کا انکشاف

ایبٹ آباد میں
دل کو دہلا دینے والا سانحہ، لیڈی ڈاکٹر وردا مشتاق کا قتل پوری وادی میں غم و غصے کی لہر دوڑا گیا۔ ڈاکٹر وردا کی لاش لڑی بنوٹہ کے علاقے سے برآمد ہوئی جہاں ملزمان نے انتہائی سفاکی کے ساتھ ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ڈاکٹر وردا نے تین کروڑ روپے سے زائد مالیت کے زیورات اپنی سہیلی کو امانت کے طور پر دیے تھے۔ یہی قیمتی امانت اس بھیانک واردات کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔
تحقیقات کے دوران بلے دی ہٹی گروہ سمیت نو ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ مرکزی کرداروں سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس کی تاخیر نے جان لے لی؟
اہم سوالات اور سنگین غفلت کے الزامات پولیس پر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، ڈاکٹر وردا کے اغواء کی فوری اطلاع کے باوجود پولیس کی مبینہ سست روی نے صورتحال کو سنگین بنا دیا۔
اگر بروقت ناکہ بندی اور کارروائی کی جاتی تو ڈاکٹر کی جان بچ سکتی تھی۔
اسی کے ساتھ چوکی جناح آباد کی کارکردگی بھی شدید تنقید کی زد میں ہے۔
دن کی روشنی میں ایک خاتون ڈاکٹر کا اغواء ہونا، اپنے آپ میں ایک خوفناک اور ناقابل برداشت واقعہ ہے دوسری جانب ہسپتالوں میں ہڑتال — غم و غصے کی لہر آج ڈاکٹر وردا کے خوفناک قتل کے خلاف ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں نے مکمل ہڑتال کر دی۔
او پی ڈی بند رہی اور ڈاکٹرز نے مطالبہ کیا کہ
“اگر پولیس بروقت حرکت میں آتی تو ڈاکٹر وردا آج زندہ ہوتیں۔”
طبی عملے نے سوال اٹھایا کہ کیا احتجاج، نعرے یا ہڑتال ڈاکٹر کی جان واپس لا سکتے ہیں؟
انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری اور سخت ایکشن کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ڈاکٹر یا شہری کے ساتھ ایسا المناک واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔
مزید گرفتاریاں متوقع ہیں پولیس ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ڈاکٹر وردا کے اہل خانہ اور شہریوں نے حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بہیمانہ واردات میں ملوث تمام کرداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایبٹ آباد میں پیسے کی چمک، پولیس ملزمہ کو ہتھکڑی تک نہ لگا سکی…